

بے وجہ
ہی سہی،
پر دل
دکھایا
تو
ہے چلو مان لیا،
آج رلایا تو
ہے (آہ)
نہ کوئی
گلا ہے،
نہ کوئی
شکوہ ہے تم سے
بس دیا
ہوا غم
بہت گہرا
ہے تم نے ہنستے ہوئے
وہ کہہ دیا
سوچ کر
روح کانپ
اٹھی
کل
جب یہی
درد لوٹ
آئے گا
تب خالی پن تمہیں بھی سمجھ آئے گا
بے وجہ
ہی سہی،
پر دل دکھایا تو ہے چلو مان لیا،
آج رلایا
تو ہے
قصور صرف اتنا،
بے انتہا
چاہا
ہر بار آزمایا
ہمیں بار بار
بدلتے ہیں
وقت،
بدلتے جذبات
پر بے قصور کے آنسو
عمر بھر کا
ساتھ
بڑی خاموشی سے
سہہ لیا ستم اس خاموشی کی
صدا جائے گی دور
جب یاد
آئے گی سادگی ہماری
ستائے گی کمی
بہت شدت سے
کل
جب یہی
درد لوٹ
آئے گا
تب خالی پن تمہیں بھی
سمجھ آئے گا
بے وجہ
ہی سہی،
پر دل دکھایا تو
ہے چلو مان لیا،
آج رلایا
تو ہے (ہائے)
ہمارا خالی
پن سمجھ آئے گا۔۔۔ (خاموشی)