

محبت میں پھگل رہا
ہؤ محبت کئ
لو بن کر
گھل رہا
ہؤ
محبت کا طلبگار ہؤ
محبت کا سوالی بن گیا
ہؤ
محبت کی
منتوں کا
سوالی بن گیا ہؤ
محبت جو
ظاہر
ہے
وہ درد کا سوالی ہے
محبت نے
پھر
رات بھر
سونے نہیں دیا
محبت نزدیکیوں کی
تلاش میں ہے
محبت کے ہاتھوں میرا دل
مرگیا ہے محبت میری آنخوں میں موجودہے
محبت کی
بارش
میسر نہی