

سب کہتے ہیں باپ مضبوط ہوتا ہے، پر کسی نے اُس کی
خاموشی نہیں دیکھی…
وہ مسکراتا رہا میرے لیے،
اور
میں اُس کے دل کا درد پڑھ نہ سکا۔
چھوٹا تھا تو انگلی پکڑ کے چلایا، گرنے لگا تو سینے سے
لگایا۔ خود دھوپ میں جلتا رہا سارا دن، میرے لیے سایہ بناتا
رہا ہر پل۔ اپنی خواہشیں سب دفن کر دیں، میرے خوابوں کے
نام کر دیں۔ نئے کپڑے میرے، پرانے اُس کے، خوشیاں میری، غم
سارے اُس کے۔
میں نے کبھی پوچھا نہیں،
بابا… آپ تھکتے نہیں؟
آپ بھی تو انسان ہیں، آپ کے دل میں بھی درد کہیں؟
بابا…
آپ کی خاموشی سمجھ نہ سکا، آپ کے آنسو کبھی دیکھ نہ
سکا۔ آج جو کچھ ہوں، آپ کی دعا ہے، میرے رب کی
سب سے بڑی عطا ہے۔ بابا… اگر وقت واپس آ جائے، میں
آپ کے ساتھ کچھ پل اور گزاروں۔ جو لفظ کبھی کہہ نہ
سکا، آج دل کھول کے آپ کو کہہ ڈالوں۔
وہ جیب میں کم، مگر حوصلے میں امیر تھا، میرے ہر خواب
کا وہ پہلا سفیر تھا۔ لوگوں کے سامنے کبھی جھکا نہیں،
میری خاطر کتنی بار خود سے لڑا وہ۔ رات دیر سے گھر
آتا تھا تھکا ہوا، پھر بھی پوچھتا، "بیٹا، کھانا کھایا؟" میں موبائل
میں مصروف، وہ خاموش بیٹھا، مجھے کیا خبر تھی وقت اتنا کم
تھا۔
آج سمجھ آیا اُس کے لفظوں کا وزن، آج محسوس ہوا اُس
کے ہاتھوں کا لمس۔ کل تک جو سایہ میرے ساتھ
چلتا تھا، آج اُس کی یاد میں دل میرا جلتا ہے۔
بابا… میں بڑا ہو گیا،
مگر آپ کے سامنے آج بھی بچہ ہوں۔ دنیا سے لڑ سکتا
ہوں شاید، مگر آپ کے بغیر اندر سے تنہا ہوں۔ اگر میری
آواز وہاں تک پہنچے،
تو بس اتنا کہنا چاہوں گا…
بابا، آپ نے مجھے زندگی دی،
میں آپ کو اپنی ہر خوشی دینا چاہوں گا۔
بابا…
آپ میری طاقت، آپ میری شان، آپ سے روشن میری پہچان۔ دنیا
میں لاکھ لوگ مل جائیں، بابا جیسا کوئی کہاں مل پائے۔ جو
بھی ہوں، آپ کی وجہ سے ہوں، میری ہر دعا میں آپ
شامل ہوں۔ اور اگر رب سے ایک دعا مانگنی ہو، تو بس
بابا کی عمر لمبی مانگوں۔
بابا… آپ نے کبھی کہا نہیں کہ آپ مجھ سے محبت کرتے
ہیں،
مگر آپ کی پوری زندگی…
میری محبت کی گواہی ہے۔ (بابا...)