

کچھ رشتے نام کے نہیں ہوتے،
کچھ لوگ بس عام نہیں ہوتے،
قسمت سے ملتے ہیں ایسے یار،
جو زندگی بھر جدا نہیں ہوتے۔
وہ پہلا دن، وہ پہلی ملاقات، پھر بن گئی اپنی ہر ایک
بات۔ ہنستے ہنستے گزرے کتنے سال، تین دل، مگر ایک خیال۔ کبھی
جیب خالی، کبھی خواب بڑے، پھر بھی ہم کبھی اکیلے نہ پڑے۔
دنیا نے جب بھی منہ موڑا، یاروں نے آ کے ہاتھ پکڑا۔
تین یار ہیں،
تین جان ہیں، ایک دوسرے کی
پہچان ہیں۔ خوشی ہو یا غم، ساتھ رہیں گے،
آخری
سانس تک یار رہیں گے۔ تین یار ہیں، ایک کہانی، کبھی ہنسی،
کبھی آنکھوں میں پانی۔ وقت بدل جائے،
دنیا بدل جائے، اپنی یاری کبھی نہ بدل پائے۔
ایک ہنسائے، ایک سمجھائے، ایک مشکل میں ساتھ نبھائے۔ تینوں کی اپنی
اپنی ادا،
مگر دل میں ایک ہی وفا۔
کبھی چھوٹی بات پہ لڑ جاتے ہیں، پھر خود ہی گلے لگ
جاتے ہیں۔ یہ کیسی اپنی یاری ہے، جو لڑ کر بھی اور
پیاری ہے۔
کل اگر ہم دور ہو جائیں، اپنے اپنے شہر بسائیں، جب بھی
یاد آئے وہ پرانی شام، دل میں گونجے گا یاروں کا نام۔
نہ تصویریں پرانی ہوں گی،
نہ باتیں ہماری کہانی ہوں گی، وقت چاہے جتنا بھی گزرے، یہ
دوستی دل میں زندہ رہے گی۔
تین یار ہیں، تین جان ہیں، ایک دوسرے کی پہچان ہیں۔ راستے
چاہے جدا ہو جائیں،
دل کے رشتے کہاں جدا ہو پائیں؟
تین یار ہیں، ایک کہانی، ہنسی ہماری،
درد بھی پرانی۔ دنیا ختم ہو، وقت رک جائے،
اپنی یاری پھر بھی رہ جائے۔
نہ خون کا رشتہ،
نہ کوئی وعدہ، پھر بھی سب سے مضبوط ہے رشتہ۔
زندگی نے جو سب سے خوبصورت دیا، وہ تین یار… اور یہ
دوستی ہے۔