

(hmmmm) رات خاموش ہے،
دل بے قرار ہے
تیرے بغیر یہ
زندگی بے کار ہے
آنکھیں بند کروں
تو تو نظر
آئے
کھولوں تو بس ترا
انتظار ہے
تو میرے پاس نہیں
پھر بھی قریب
لگتا ہے
ہر دھڑکن
میں
تیرا ہی نام لکھا
لگتا ہے (ہائے)
جن راستوں پہ ہم
ساتھ چلا کرتے تھے
آج وہی راستہ
مجھے تنہا لگتا ہے
میں ہنستا ہوں دنیا
کے سامنے مگر
اندر سے دل روز
تھوڑا سا ٹوٹتا ہے
تو میرے پاس نہیں
پھر بھی قریب
لگتا ہے
ہر دھڑکن
میں
تیرا ہی نام لکھا
لگتا ہے
کوئی پوچھے اگر تیری کمی کا سبب
میرا خاموش چہرہ سب کچھ کہتا ہے
کاش وقت کو تھوڑا
سا پیچھے لے جا (کاش...)