

بے خبر، بے اثر، ہو گیا ہوں میں
تیری خاطر در بدر، ہو گیا ہوں میں
جس کو سمجھا تھا مقدر،
وہ سفر ہی رہ گیا
تو تو میرا ہو نہ سکا،
میں بھی اپنا نہ رہا
تیری باتوں کی خوشبو، ابھی باقی ہے
میرے کمرے میں تیری،
ہنسی باقی ہے
میں نے تو دل سے تجھے، اپنا مانا تھا تو نے کیوں
دل کو فقط، ایک بہانہ جانا تھا
میں نے چاہا تھا تجھے، بے حساب، بے مثال تو نے چھوڑا
تو بکھرنے لگا میرا حال
اب نہ شکوہ ہے تجھ سے،
نہ کوئی سوال
بس تیری یاد بن گئی، میری راتوں کا وبال
تو بے خبر،
میں بے اثر
دل بے گھر،
رات بے سحر
تو کسی اور کا، یہ خبر ہے مگر میرا دل آج بھی،
تیرا منتظر تو بے خبر، میں بے اثر
عشق میرا، میرا ہی قاتل تو ملا بھی تو خوابوں میں اور
جاگا
تو تھا میں بے گھر
تیری تصویر سے باتیں،
میں کرتا رہا
اپنی تنہائی کو تیرا،
نام دیتا رہا
لوگ کہتے رہے، وقت
مرہم بن جائے گا
وقت گزرا مگر یہ درد،
کم نہ ہو پائے گا
تیری یادوں کا شہر، آج بھی آباد ہے میری آنکھوں میں چھپا،
ایک سمندر آباد ہے تو اگر پوچھے کبھی،
حال میرا کیا ہے
مسکرا دوں گا فقط…
کہوں گا، “کچھ نہیں ہے” کاش تو ایک دفعہ، پلٹ کے دیکھتا
میرے ٹوٹے ہوئے دل، کو بھی سمجھتا میں نے مانگا نہ تجھے،
دنیا
کی طرح میں نے چاہا تھا فقط، دعا کی طرح
تو بے خبر، میں بے اثر دل بے گھر، رات بے سحر
تو کسی اور کا، یہ خبر ہے مگر
میرا دل آج بھی،
تیرا منتظر
تو بے خبر…
میں بے اثر…
تیری یادوں میں عمر بھر… تو ملا نہیں، پھر بھی اے ہمسفر
میرا ہر درد ہے، تیرے نام کے ساتھ
سفر
بے خبر… بے خبر…
تو رہا بے خبر… اور میں… تیرے بعد بھی…
تیرا منتظر…