

آج محفل میں
ایک نیا قصہ ہے، سامنے زید، سامنے شاہد
کھڑا ہے، دونوں کے منہ پہ معصومیت کا پردہ، پیچھے دیکھو تو
دونوں کا دھندا!
زید کے پیٹ میں بات نہ ٹھہرتی، ہر چھوٹی خبر فساد بن
کے نکلتی، جو بات ملی، وہ بازار میں جائے،
زید کے منہ سے راز کہاں چھپ پائے؟ لڑکی کی بات ہو،
یا کوئی راز، زید بنا دے فوراً نیا انداز، بات تھی چھوٹی،
آگ لگا دی، پوری محفل میں خبر پھیلا دی!
شاہد سب کے ٹٹے اٹھاتا پھرے، منہ پہ میٹھا، سب کا بنے،
جس کے سامنے بیٹھے، اس کا یار، پیچھے جائے تو وہی کردار!
“بھائی تو بہترین ہے!” سامنے کہے، پیچھے بیٹھ کے برائیاں کرے،
جس کو کہے اپنا خاص یار، اس کے پیچھے کھول دے اخبار!
زید بولا: “تو بڑا دوغلا ہے!” شاہد بولا: “تو خود فساد کی
جڑ ہے!” زید بولا: “میں تو بس سچ بتاتا ہوں!” شاہد بولا:
“میں تو بس سب کو ہنساتا ہوں!” دونوں نے ایک دوسرے کو
دیکھا، دونوں کا اپنا راز تھا گہرا، ایک کے پیٹ میں بات
نہ ٹھہرے، دوسرا پیچھے سب کی خبر دے!
او زید! تو خبر کا پیکٹ ہے، او شاہد!
تو میٹھا سا ڈبل کریکٹر ہے!
ایک فساد کی ماچس لائے، دوسرا پیچھے قصے سنائے!
زید کہے: “میں نے کچھ نہیں کیا!” شاہد کہے: “میں نے نام
نہیں لیا!” دونوں کی باتوں کا ایک ہی حساب، منہ پہ سلام،
پیچھے خراب! (hahaha!)
زید: “میرے پیٹ کو کیوں بدنام کرے؟” شاہد: “پہلے تو اپنا منہ
آرام کرے!” زید: “تو سب کے ٹٹے کیوں اٹھاتا ہے؟” شاہد: “تو
ہر راز کیوں باہر لاتا ہے؟” زید: “تو سامنے سب کا بھائی
بنتا!” شاہد: “تو ہر بات میں فساد ڈالتا!” دونوں بولے: “میں بہتر
ہوں!” محفل بولی: “دونوں ہی خطرناک ہو!”
زید کے پیٹ میں راز نہیں، شاہد کے منہ میں لحاظ نہیں،
ایک خبر کو آگ بنائے، دوسرا پیچھے نام لگائے!
زید اور شاہد، کیا جوڑی ہے، دونوں کی اپنی الگ کمزوری ہے،
ایک سے راز بچانا مشکل، دوسرے سے عزت بچانا مشکل!
زید بولا: “میں تو صاف ہوں!” شاہد بولا: “میں بھی صاف ہوں!”
محفل ہنس کے بولی دونوں سے—
“تم دونوں بس ایک جیسے ہو!” (hahaha!)