

ہوتا اگر
میں شاعر
کوئی
تو لفظ
ترے نام کرتا
جو بات
چھپی
ہے دل میں میرے
وہ آج
ترے نام کرتا
تیری اداؤں پہ شاعری لکھتا تیری آنکھوں پہ غزل بناتا تیری ہنسی
کو پھول سمجھ کر
ہر لفظ میں تجھے سجاتا
تیری باتوں کا ذکر جو آئے دل میرا خود مسکرائے
آرتی، تُو سامنے جو آ جائے
وقت بھی جیسے ٹھہر جائے
تیری ایک نظر جو مجھ پہ پڑے دل میرا سب کچھ بھول
جائے تُو بس ایک بار کہہ دے “اپنا” یہ دل عمر بھر
تیرا ہو جائے
ہوتا اگر میں شاعر کوئی تجھ پہ پوری کتاب لکھتا تیری آنکھوں
کی گہرائی میں اپنا ہر اک خواب لکھتا تیری اداؤں پہ شاعری
تیری آنکھوں پہ غزل لکھتا
آرتی،
تُو ایک بار جو مسکرا دے
میں عمر بھر
تجھ پہ لکھتا
قائل ہوتا تیری چال کا صدقے جاتا تیری نگاہوں پہ
مر ہی جاتا تیرے حسن پر
ٹوٹ کر گرتا تیری بانہوں میں تیری خوشبو سانسوں میں رکھتا
تیری یادوں کو دل میں بساتا
دنیا مجھ سے جو کچھ بھی مانگے
میں صرف تیرا ساتھ مانگتا
نہ چاہیے مجھے کوئی دولت نہ چاہیے دنیا کی شہرت بس آرتی
تُو ساتھ رہے
میری اتنی سی ہے محبت دوریاں چاہے جتنی بھی ہوں دل سے
تجھے دور نہ کر پاؤں گا تُو میری ہو یا میری دعا
ہو میں ہر حال میں تجھے
چاہوں گا
ہوتا اگر میں شاعر کوئی تو ہر لفظ تیرا نام ہوتا میری
ہر صبح تیرا ذکر ہوتی میری ہر شام تیرا نام ہوتا تیری
ہنسی کو صبح
لکھتا
تیری خاموشی کو رات لکھتا آرتی،
میری ہر اک دعا میں
میں تیرا ہی ساتھ لکھتا
ہوتا اگر میں شاعر کوئی…
تو بس اتنا
لکھتا… آرتی، میری محبت کا سب سے خوبصورت لفظ… صرف تُو ہے۔