

راتوں کو تیری یاد ستاتی ہے مجھے
خاموشی ہر پل
رلاتی ہے مجھے
جس دل میں بسایا
تھا تجھ کو کبھی
وہی دل اب توڑ گیا ہے
مجھے
تم چھوڑ گئے، ہم ٹوٹ گئے
تیرے بنا
ہم خود سے روٹھ گئے
محبت تھی سچی، قصور کیا تھا؟ پھر کیوں تم ہم سے دور
گئے؟
تیری باتیں اب بھی
یاد آتی ہیں
آنکھیں میری ہر رات نم ہو جاتی ہیں
میں نے تو چاہا تھا عمر بھر تجھے
قسمت
ہی شاید
بدل جاتی ہے
تم چھوڑ گئے، ہم ٹوٹ گئے
تیرے بنا
ہم خود سے روٹھ گئے سناء اللہ پالاری کا دل پوچھتا ہے
ہم سے آخر کیوں دور گئے؟ (ہم سے دور گئے)
اب نہ کوئی خواب سجاؤں گا میں
تیرا نام دل سے مٹاؤں گا میں
لیکن یہ دل مانتا ہی نہیں
تجھے آخری سانس تک چاہوں گا میں
اگر کبھی میری یاد آئے تمہیں
تو سمجھنا کوئی رویا ہے تمہیں
سناء اللہ پالاری کی یہ محبت
چاہے زمانہ بھلا دے، ختم نہ ہوگی ہمیں۔