

خاموش رات ہے،
دل بھی اداس ہے تیری یادوں کا ہی بس احساس ہے
چاند بھی آج کچھ
سہما
سا لگے
تیرے بغیر
ہر لمحہ
تنہا سا لگے
تو نہیں، پھر بھی
تیری باتیں ہیں
میرے دل
میں
تیری یادیں ہیں
دور ہو
کر بھی
تو قریب لگے
میری دنیا
میں بس
تیری کمی لگے (ہائے...)
بارش کی بوندیں کچھ کہتی رہیں
آنکھوں سے
خاموشیاں بہتی رہیں
کاش تو پلٹ آئے
ایک بار
پھر سے سج جائے
میرا یہ جہاں
تو نہیں، پھر بھی
تیری باتیں ہیں
میرے دل میں تیری یادیں ہیں (یادیں ہیں...)
(تیری یادیں ہیں...)